بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بحرین میں شیعوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت؛ آل خلیفہ اس بار علمائے دین کے پیچھے پڑ گئے!
بحرین میں شیعیان اہل بیت(ع) کے خلاف کریک ڈاؤن کی لہر کے امتداد میں، اس بار شیعہ علماء کی گرفتاری کی باری آئی ہے۔ آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے منامہ کی جانب سے ایران کے خلاف بے بنیاد ماحول سازی کا امریکی-صہیونی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، مبینہ طور پر "پاسداران انقلاب سے منسلک ایک تشکیل" کا سراغ لگانے اور اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے کی تنبیہ
بحرین کے ہیومین رائٹس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سید احمد الوداعی نے ایک بیان میں ایران کی حمایت کے شبے پر خلیفی نظام کے ہاتھوں بحرین کی نام نہاد قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) سے تین اراکین کی برخاستگی کو "پارلیمانی زندگی" کی زدپذیری کا عنوان قرار دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں، حکمران خلیفی خاندان ـ جو خود صہیونی حکمرانوں کے حلقہ بگوش غلام ہیں ـ کی مطلق اطاعت، سیاسی میدان میں موجودگی اور بقاء کا واحد معیار بن گئی ہے اور صرف یس-مین اس نام نہاد پارلیمان میں رہ سکتا ہے۔
الوداعی نے مزید وضاحت کی کہ اس ملک میں "شہریت" کو بھی آل خلیفہ کے استبداد و آمریت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بحرینی میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی تھی کہ ملکی پارلیمنٹ نے تین اراکین کی رکنیت ختم کر دی جنہوں نے مخالف فریقوں کے خلاف ایران کی کاروائیوں کی حمایت کی تھی۔
نکتہ:
واضح رہے کہ صہیونیوں کے حلقہ بگوش بحرینی، اماراتی، اردنی قطری اور سعودیہ امریکی-اسرائیلی اڈوں کی میزبان ریاستیں ہیں۔ ان اڈوں کو ایران پر حالیہ امریکی-صہیونی جارحیت کے دوران وسیع پیمانے پر ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو ایران نے ان اڈوں کو نیست و نابود کر دیا۔
کچھ ریاستوں نے حالات کو سمجھ لیا اور کچھ پیچھے ہٹ گئیں لیکن بحرین اور امارات نے بےشرمی کی انتہا کرتے ہوئے نہ صرف امریکی-اسرائیلی اڈوں پر ایرانی حملوں کو اپنے اوپر ایرانی جارحیت قرار دیا بلکہ پرائی جنگ میں "فتح کا باقاعدہ اعلان" بھی کردیا! حالانکہ ان کے آقا ـ صہیونی اور امریکی ـ اس جنگ میں رسوا کن شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور ابھی تک فتح و کامرانی کے اعلان کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔

چنانچہ انہیں احتیاط کی ضرورت ہے گوکہ کسی نے درست کہا تھا کہ اچانک امیر بننے والے شتربان خاندانوں کی ذہنی اور فکری نشوونما بہت ہی زیادہ سست ہوتی ہے اور وہ حقیقت کو مار کھا کر سمجھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
رپورٹ: خدیجہ مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ